گلگت
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ضلع ہنزہ کی بالائی وادی چپورسن میں 19 جنوری 2026 کو آنے والے شدید زلزلے سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے نے وادی کے دور دراز علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس سے رہائشی مکانات، مویشی خانے، دکانیں اور مقامی معیشت شدید متاثر ہوئی، جبکہ متعدد خاندان سخت موسمی حالات میں بے گھر ہو گئے۔ جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہنزہ نے متعلقہ محکموں کے تعاون سے متاثرہ علاقوں کا مشترکہ سروے مکمل کر کے نقصانات کا جامع تخمینہ تیار کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی چپورسن میں 139 کچے مکانات جزوی طور پر جبکہ 33 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ اسی طرح 91 مویشی خانے جزوی اور 41 مکمل طور پر متاثر ہوئے، جبکہ زلزلے کے نتیجے میں 7 مویشی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ 18 دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ زلزلے کے فوری بعد جی بی ڈی ایم اے اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہنزہ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز اور فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس نے مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ 22 جنوری 2026 کو ایف سی این اے کی ایک خصوصی ٹیم، کمانڈنگ آفیسر 20 انجینئر کی قیادت میں وادی چپورسن پہنچی، جہاں متاثرہ خاندانوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ اس مرحلے پر 3 ہزار لیٹر کیروسین آئل، 15 خیمے، 100 سیٹ گرم ملبوسات اور 100 راشن پیکٹس فراہم کیے گئے، جن میں آٹا، دال، چینی، کوکنگ آئل، دودھ پاؤڈر اور چائے شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق 27 جنوری 2026 تک جی بی ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہنزہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی سامان کی تقسیم مکمل کر لی گئی، جس میں 215 سرمائی خیمے، 250 فوڈ پیکٹس، 650 کمبل، 250 حفظانِ صحت کٹس، 300 کیروسین ہیٹرز، 100 شالیں، 45 کچن سیٹس، 900 پینے کے پانی کی بوتلیں اور 150 دودھ کے کارٹن شامل ہیں۔ امدادی سامان کی بروقت فراہمی نے شدید سرد موسم میں متاثرہ خاندانوں کو عارضی ریلیف فراہم کیا۔
