گلگت(چیف رپورٹر )شاہراہ قراقرم پر شتیال کے مقام پر مسافر گاڑیوں کے لیے نافذ کانوائے سسٹم کو ختم کر دیا گیا ہے جس کے بعد اب مسافر گاڑیاں بغیر کسی کانوائے کے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں گی۔ اس فیصلے سے مسافروں کو طویل انتظار، غیر ضروری تاخیر اور سفری مشکلات سے نجات ملے گی۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی صورتحال اور زمینی حقائق کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد مسافر گاڑیوں کے لیے کانوائے سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب مسافر گاڑیاں معمول کے مطابق آمد و رفت کر سکیں گی تاہم دوران سفر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا بدستور لازم ہوگا۔ پولیس حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران رفتار پر قابو رکھیں، غیر ضروری رکاؤٹوں سے گریز کریں موسم اور سڑک کی صورتحال سے باخبر رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر سکیورٹی فورسز اور پولیس کی گشت معمول کے مطابق جاری رہے گی تاکہ مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق کانوائے سسٹم کے خاتمے کا یہ اقدام صوبائی حکومت نے عوامی مطالبات پر مقتدر حلقوں سے مشاورت کے بعد عمل میں لایا ہے۔ مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں کی جانب سے طویل عرصے سے کانوائے سسٹم کے باعث پیش آنے والی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا، جس کے پیش نظر حکومت نے یہ اہم فیصلہ کیا۔ عوامی حلقوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانوائے سسٹم کے باعث مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا تھا بلکہ بیمار افراد، خواتین اور بزرگ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کانوائے سسٹم کے خاتمے سے گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں سے شاہراہِ قراقرم کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کا قیمتی وقت بچے گا اور سفری سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ علاقے میں سیاحت، تجارت اور روزمرہ آمد و رفت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا، جبکہ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ قراقرم پر سڑک کی حالت بہتر بنانے، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کم کرنے اور مستقل بنیادوں پر مسافروں کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔
