محکمہ برقیات کی مبینہ نااہلی، غریب شہری کو ایک ماہ کا 10 لاکھ سے زائد کا بجلی بل موصول گلگت کے علاقے چیتا کالونی جوٹیال کے رہائشی ایک غریب شہری کو محکمہ برقیات کی جانب سے بجلی کا ہوشربا بل بھیج دیا گیا ہے جس کے باعث متاثرہ شہری شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہے۔ متاثرہ شہری عبدالقدوس کے مطابق محکمہ برقیات نے انہیں ایک ماہ کے استعمال پر 10 لاکھ 10 ہزار 990 روپے کا بجلی بل ارسال کیا ہے، جو ان کی مالی استطاعت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ عبدالقدوس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گھر صرف دو کمروں پر مشتمل ہے اور وہ کسی بھی قسم کی کمرشل سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو کمروں کے ایک سادہ سے گھر پر اس قدر بھاری بل موصول ہونا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ یہ محکمہ برقیات کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس بل کو دیکھ کر ششدر رہ گئے اور سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ بل کس بنیاد پر بنایا گیا۔ متاثرہ شہری کے مطابق انہوں نے 18 دسمبر کو ماہ اکتوبر کا 2500 روپے کا بجلی بل باقاعدہ طور پر جمع کروایا تھا، تاہم اس کے بعد دسمبر اور جنوری کے لیے یکمشت 10 لاکھ سے زائد کا بل بھیج دیا گیا، جو کسی بھی صورت قابلِ فہم نہیں۔ عبدالقدوس نے مزید کہا کہ شہر میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جہاں 24 گھنٹوں میں بمشکل 4 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے، ایسے میں اتنا زیادہ بل آنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے متعدد بار محکمہ برقیات کے دفاتر کے چکر لگا چکے ہیں، تاہم تاحال ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو سکی۔ عبدالقدوس کا کہنا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں اور ان کے لیے اس قدر بھاری رقم کی ادائیگی ممکن نہیں، نہ ہی وہ یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ انہیں کیوں اس ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ متاثرہ شہری نے سیکریٹری برقیات گلگت بلتستان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، مبینہ غلط بل کی تحقیقات کرائیں اور انہیں ان کے اصل اور جائز استعمال کے مطابق درست بل فراہم کیا جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنا واجب الادا بل جمع کروا سکیں۔ شہریوں نے بھی اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محکمہ برقیات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
