تنویر احمد سے
گلگت بلتستان حکومت نے ضلع ہنزہ میں حالیہ شدید زلزلوں سے ہونے والی تباہی کے پیشِ نظر وادی چپورسن کے تین دیہات کو باضابطہ طور پر آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق زود خون، ستمرگ اور اسپنج کے دیہات کو ’’Calamity-hit‘‘ ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں آنے والے دو شدید زلزلوں کے نتیجے میں ان دیہاتوں میں درجنوں رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکیں، پانی کی اسکیمیں اور لائیو اسٹاک بھی متاثر ہوا ہے۔ شدید سرد موسم اور آفٹر شاکس کے باعث مقامی آبادی کو مزید خطرات کا سامنا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام نیشنل کلیمیٹی ایکٹ 1958 کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ہنگامی امداد، ریلیف اور بحالی کے اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد حکومت کو متاثرین کے لیے خصوصی فنڈز، راشن، خیمے، طبی سہولیات اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی میں آسانی حاصل ہوگی۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA)، کمشنر گلگت ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر ہنزہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور بحالی کے کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ ہدایات میں متاثرہ خاندانوں کی مکمل رجسٹریشن، نقصانات کا تخمینہ، اور شفاف طریقے سے امداد کی تقسیم پر بھی زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ دیہات میں عارضی رہائش کے انتظامات، طبی کیمپس اور راشن کی فراہمی کا عمل جاری ہے، جبکہ خطرناک قرار دیے گئے مکانات سے خاندانوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی بھی کی جا رہی ہے۔ علاقہ مکینوں نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مستقل بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے
